ہفتہ 31 جنوری 2026 - 07:00
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس اور اقوامِ عالم کے نظریات!

حوزہ/عالمی سیاست میں امن (Peace) ایک ایسا نعرہ ہے جسے اکثر طاقتور ممالک اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورِ حکومت بھی اسی تضاد کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک جانب دنیا میں امن کے قیام کے دعوے کیے، تو دوسری جانب ایسے فیصلے اور اقدامات کیے جنہوں نے عالمی سطح پر شدید تنازع، بے اعتمادی اور عدم استحکام کو جنم دیا۔ اسی تناظر میں ٹرمپ کے مجوزہ یا تصوراتی “بورڈ آف پیس” اور اس پر اقوامِ عالم کے ردِعمل کا جائزہ لینا نہایت اہم ہو جاتا ہے۔

تحریر: مولانا علی عباس حمیدی

حوزہ نیوز ایجنسی| عالمی سیاست میں امن (Peace) ایک ایسا نعرہ ہے جسے اکثر طاقت ور ممالک اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورِ حکومت بھی اسی تضاد کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک جانب دنیا میں امن کے قیام کے دعوے کیے، تو دوسری جانب ایسے فیصلے اور اقدامات کیے جنہوں نے عالمی سطح پر شدید تنازع، بے اعتمادی اور عدم استحکام کو جنم دیا۔ اسی تناظر میں ٹرمپ کے مجوزہ یا تصوراتی “بورڈ آف پیس” اور اس پر اقوامِ عالم کے ردِعمل کا جائزہ لینا نہایت اہم ہو جاتا ہے۔

ٹرمپ کی سیاسی سوچ کا بنیادی نکتہ “امریکہ فرسٹ” تھا۔ اس نظریے کے تحت عالمی امن، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کو ثانوی حیثیت دی گئی، جبکہ امریکی معاشی اور عسکری مفادات کو اولین ترجیح دی گئی۔ ٹرمپ نے بارہا یہ دعویٰ کیا کہ وہ جنگوں کے خاتمے اور امن کے قیام کے خواہاں ہیں، مگر ان کی عملی پالیسیاں اس دعوے سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ فلسطین،یمن، ایران، افغانستان اور یوکرین جیسے معاملات میں ان کا طرزِ عمل عالمی امن کے بجائے کشیدگی میں اضافے کا سبب بنا۔

ٹرمپ کے دور میں اگر “بورڈ آف پیس” جیسے کسی تصور کو سامنے رکھا جائے تو وہ دراصل ایک سیاسی حکمتِ عملی محسوس ہوتی ہے، نہ کہ ایک غیر جانبدار امن منصوبہ۔ مثال کے طور پر مشرقِ وسطیٰ میں “ابراہیمی معاہدات” کو امن کی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا، مگر فلسطینی عوام اور کئی مسلم ممالک نے اسے یک طرفہ، غیر منصفانہ اور طاقت کے بل پر مسلط کردہ منصوبہ قرار دیا۔ اقوامِ عالم کے ایک بڑے حصے کا خیال تھا کہ یہ معاہدات مسئلہ فلسطین کے بنیادی حل کے بجائے اسرائیلی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ ہیں۔

ایران کے معاملے میں ٹرمپ کی پالیسی امن کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ ایران نیوکلیئر معاہدے (JCPOA) سے یک طرفہ طور پر دستبرداری، سخت اقتصادی پابندیاں اور مسلسل دھمکی آمیز بیانات نے خطے کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، روس اور چین جیسے عالمی کھلاڑیوں نے اس پالیسی کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ ان کے نزدیک ٹرمپ کا طرزِ فکر امن کے فروغ کے بجائے عالمی عدم استحکام کو بڑھا رہا تھا۔

افغانستان میں بھی ٹرمپ نے ایک طرف امن مذاکرات کی حمایت کی، جبکہ دوسری طرف عسکری دباؤ جاری رکھا۔ طالبان سے مذاکرات کو امن کی کوشش کہا گیا، مگر افغان عوام اور عالمی مبصرین نے اسے جلد بازی اور سیاسی مفاد پر مبنی فیصلہ قرار دیا۔ اقوامِ عالم کا ماننا تھا کہ پائیدار امن کے لیے جامع، شفاف اور افغان عوام کی شمولیت ضروری تھی، جو ٹرمپ کی پالیسی میں نظر نہیں آئی۔

یورپی ممالک نے بھی ٹرمپ کے امن نظریے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ نیٹو جیسے دفاعی اتحاد پر تنقید، ماحولیاتی معاہدوں سے علیحدگی، اور اقوامِ متحدہ جیسے اداروں کو کمزور کرنے کے بیانات نے یورپ میں یہ تاثر پیدا کیا کہ امریکہ عالمی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ یورپی رہنماؤں کے نزدیک ٹرمپ کا تصورِ امن دراصل طاقت کے توازن کے بجائے طاقت کے استعمال پر مبنی تھا۔

عالمی جنوب (Global South) کے ممالک، خصوصاً افریقہ اور لاطینی امریکہ، نے بھی ٹرمپ کی پالیسیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا۔ ان ممالک کے لیے امن کا مطلب ترقی، خودمختاری اور مساوی عالمی نظام ہے، جبکہ ٹرمپ کی پالیسیاں پابندیوں، تجارتی دباؤ اور سیاسی مداخلت پر مبنی تھیں۔ اس لیے ان اقوام نے ٹرمپ کے کسی بھی امن منصوبے کو حقیقی امن کے بجائے طاقت ور ممالک کی بالادستی کا آلہ سمجھا۔

اس کے برعکس، ٹرمپ کے حامی حلقے یہ دلیل دیتے ہیں کہ ان کے دور میں امریکہ نے کوئی نئی بڑی جنگ شروع نہیں کی، اور یہی ان کے نزدیک امن کی علامت ہے۔ تاہم ناقدین کے مطابق جنگ نہ چھیڑنا اور امن قائم کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ امن کے لیے انصاف، مکالمہ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری ضروری ہوتی ہے، جو ٹرمپ کے دور میں کمزور پڑتی دکھائی دی۔

نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ کا “بورڈ آف پیس” یا امن سے متعلق دعوے اقوامِ عالم کے نزدیک زیادہ تر سیاسی نعروں تک محدود رہے۔ عالمی برادری کا ایک بڑا حصہ اس بات پر متفق نظر آیا کہ ٹرمپ کا تصورِ امن یک طرفہ، مفاداتی اور طاقت کے استعمال پر مبنی تھا، نہ کہ انصاف اور مساوات پر۔

آخر میں یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ عالمی امن کسی ایک ملک یا رہنما کے فیصلوں سے قائم نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے اقوامِ عالم کے درمیان اعتماد، تعاون اور باہمی احترام ضروری ہے۔ ٹرمپ کا دور اس بات کی مثال بن کر سامنے آتا ہے کہ اگر امن کو صرف قومی مفاد کی عینک سے دیکھا جائے تو وہ عالمی سطح پر قبولیت حاصل نہیں کر پاتا۔ حقیقی امن وہی ہے جو طاقت نہیں، بلکہ اصولوں، انصاف اور مکالمے سے جنم لے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha